دن کافی ہو چلا تھا ہم اپنی اپنی موٹر سائکلز پہ کچے اور پتھریلے راستے پہ چلے جا رہے تھے۔ کافی دنوں سے نلتر جھیل تک جانے کا پروگرام ہوا تھا۔ میں اور چھوٹا بھائی اور میرا کزن صبح سویرے ہی کھانے پینے اور گرم کپڑے لیئے نلتر جھیلوں کی طرف چل دیئے۔زیر نظر تسویر بڈولوک جھیل کی ہے۔ بڈولوک شنا زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گدلے پانی کے ہیں۔یہ جھیل آس پاس کے گلیشیئرؤں سے رس رس کے آنے والے پانی سے بنی ہے۔اسے اگر گلیشئر جھیل کہیں تو بے جا نہیں ہو گا۔اس جھیل کی ایک عجیب سی پر اسرار سی ہیبت سی ہے، ہمیں تو ایسا لگا۔ جب آپ اس جھیل پہ آئیں تو آپ کو کیسا لگے گا۔ یہ ہم بتا نہیں سکتے لیکن آپ ضرور بتایئے گا۔ ہم نے اس جھیل سے متعلق بہت سی پراسرار کہانیاں اپنے بزرگوں سے سنی تھیں پہلے گماں سا لگ رہا تھا پر یہاں آکر یہ گمان یقین میں بدل گیا۔اس جھیل تک آنے کے لیئے کم از کم نیلے پانیوں والی جھیلوں سے تیس سے چالیس منٹ لگ گئے۔
ہم اپنے ساتھ کچھ بسکٹ اور کولڈ ڈرنک لائے تھے ۔ جب ہم اس جھیل پہ پہنچے تو کافی بھوک لگ رہی ےھی اس بھوک کا اثر تھا یا کچھ اور جو کچھ کھایا شاید اس سے پہلے ایسا لذیذ طعام پہلے نہیں کھایا ہو گا۔ یہاں ایک دو جھونپڑیاں بھی ہیں جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ شاید یہاں کے جو چرواہے تھے یہاں سے ہجرت کر گئے تھے۔ نتر ویلی اور اس سے متصل نالوں میں گجروں کی آبادی ہے۔
Showing posts with label beautifullake. Show all posts
Showing posts with label beautifullake. Show all posts
Wednesday, 26 August 2015
Thursday, 20 August 2015
Nalter Lake
گلگت بلتستان میں واقع ایک بہت ہی خوبسورت جگہ وادی نلتر جسے قدرت نے بے پناہ قدرتی حسن سے سجا رکھا ہے ۔وادی نلتر میں لگ بھگ چھ مختلف بے حد قدرتی خوبصورت جھیلیں ہیں جو اپنے بے پناہ قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحو ں کے لیئے کشش کا باعث ہیں۔زیر نظر کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کی گئی تصویر بھی ایک ایسی ہی جھیل کی ہے ۔ یہ جھیل آس پاس کے برفیلے پہاڑوں کی چوٹیوں پر جمی ہوئی برف سے رس رس کے آنے والے پانی سے بنی ہے۔ یہ پانی زیر زمیں پہاڑوں کے اندر ہی اندر رس کے ہیاں جمع ہو کے یہ خوبسورت جھیل بنی ہے۔پاکستان اور دنیا بھر سے قدرتی حسن کے شوقین حضرات یہاں آتے رہتے ہیں۔فوٹو گرافرز حضرات کے لیئے یہ بہت ہی موزوں جگہ ہے۔یہاں آتے وقت اپنے سات گرم کپڑے کوٹ چھتری وغیرہ لے کر آیئے گا۔کیونکہ یہاں بارش اور برف باری ہونے کا کوئی ٹائم نہیں ہے۔ارے بھئی ایک بات تو بتانا ہم بھول ہی گئے۔ وہ یہ کی یہاں تک آنے راستہ بہت ہی خراب ہے۔ کیونکہ ہر موسم بہار یعنی سیاحت کے ماسم میں یہاں زیادہ گرمی کی وجہ سے نلتر نالے میں پانی کا اخراج بہت ہی زیادہ ہو جاتا ہے۔ جس سے سڑک ٹوٹ بھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ بہرحال نلتر آتے وقت اپنے ساتھ ٹینٹ وغیرہ لے کر آیئے گا۔
جب آپ اس جھیل والی جگہ پہ پہنچ جائیں گے تو آپ کو اور دو تین جھیلیں دکھائی دیں گی۔ یہ جھیلیں بھی برفیلے پانی کے
چشموں سے بنی ہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)



